ہوتی ہے بندۂ مومن کی اذاں سے پیدا

یہ سحر جو کبھی فردا ہے کبھی ہے امروز

نہیں معلوم کہ ہوتی ہے کہاں سے پیدا

وہ سحر جس سے لرزتا ہے شبستان وجود

ہوتی ہے بندۂ مومن کی اذاں سے پیدا

By | 2017-07-06T20:28:34+00:00 July 6th, 2017|علامہ اقبال|0 Comments

Leave A Comment